Close Button
Karachi
Current weather
Humidity-
Wind direction-

کراچی میں بس کی ٹکر سےڈھائی سالہ بچہ جاں بحق،ہیوی گاڑیوں کی ٹکر سے ہلاکتوں کی تعداد 80 ہو گئی

بس

کراچی کے علاقے سپرہائی وے جمالی پال کے قریب بس کی ٹکر سے ڈھائی سالہ بچہ جاں بحق ہو گیا،فرحان نامی بچہ اپنی والدہ کے ہمراہ تھا کہ بس نے اسے ٹکر مار دی، بچے کی لاش قانونی کارروائی کے لئے عباسی شہید اسپتال منتقل کر دی گئی ہے۔

اس سے قبل کورنگی انڈسٹریل ایریا کے علاقے میں بھی ٹریلر کی ٹکر سے ایک شخص جاں بحق ہق گیا ۔جاں بحق شخص کی شناخت عدنان کے نام سے گئی جو کہ سرکاری ادارے کا ریٹائرڈ اہلکار تھا،

پولیس حکام کے مطابق ٹریلر ڈرائیور کو موقع سے گرفتار کر کے تھانے منتقل کر دیا گیا ہے، اس سے قبل شہریوں نے ڈرائیور کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنانے کی بھی کوشش کی جسے پولیس نے ناکام بنا دیا۔

مزید:سندھ پولیس کا ٹریفک قوانین کی خلاف وزری پرآپریشن،36 گاڑیاں اور382 موٹر سائیکل تحویل میں لے لیں

رواں سال کراچی میں ٹریفک حادثات میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 255 ہو چکی ہے، جبکہ ہیوی ٹریفک سے 79 افراد لقمہ اجل بنے ہیں۔

ریسکیو اداروں کے اعدادو شمار کے مطابق ٹریفک حادثات میں زخمیوں کی تعداد 3 ہزار 436 سے تجاوز کرگئی ہے۔

رواں سال ڈمپر کے حادثات میں 18 افراد کی جان گئی جبکہ ٹریلرز کی ٹکر سے 30 افراد جاں بحق ہوئے۔

واٹر ٹینکرز کی ٹکرز سے 17 افراد، مزداسے 5 اور بس کی ٹکر سے 10 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

Share this news

Follow Times of Karachi on Google News and explore your favorite content more quickly!
Leave a Reply
Related Posts
Read More

سانگھڑ میں اونٹ کی ٹانگ کاٹنے کے الزام میں گرفتار چھ ملزمان کو گزشتہ روز عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں تفتیشی افسر نے بتایا کہ دو ملزمان کی جانب سے اعتراف جرم کرلیا گیا ہے تیرہ جون کو سومار ولد یارو بھن نامی شخص کی ایک اونٹنی ضلع سانگھڑ میں واقع ایک کھیت سے گزری، جو مبینہ طور پر جعفر نامی ایک اور شخص کا تھا۔وڈیرے نے پہلے ملازمین کے ہمراہ اونٹنی پر تشدد کیا اور پھر کلہاڑی سے دائیں ٹانگ کا نچلا حصہ کاٹ دیا تھا پیشی کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے دو کلہاڑیاں برآمد کی گئی ہیں اور دو ملزمان نے جرم کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔عدالت نے تمام ملزمان کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے۔ دوسری جانب پولیس کی جانب سے وڈیرے کو کلین چٹ دے دی، ڈی ایس پی لون خان شر کا کہنا ہے کہ جہاں واقعہ ہوا وہ غلام رسول کی زمین نہیں ہے، یہ زمین دوسرے وڈیرے کی ہے، ہمیں غلام رسول کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا